قیامت شروع ہو چکی ہے

میٹرو بس سٹیشن، IJP روڈ والا، شام کو ہمیشہ بھرا رہتا ہے۔ راولپنڈی سے آنے والے مسافر اسلام آباد والوں کے ساتھ پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ ایک آدمی جس نے شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی، اچانک اپنے ساتھ والے کے کندھے پر جھکا اور دانت گاڑ دیے۔ سیکیورٹی گارڈ نے سوچا لڑائی ہے، شاید پاکٹ مار پکڑا گیا۔ وہ بھاگتا ہوا آیا۔ اس کی سیٹی بجنے سے پہلے ہی چار اور لوگ زمین پر گر چکے تھے اور ان کے جسموں میں عجیب سی اینٹھن تھی۔ دو منٹ میں سٹیشن سے چیخیں سنائی دے رہی تھیں جو جناح ایونیو تک گونج رہی تھیں۔

باہر سڑک پر لوگ اپنے فون پر ویڈیوز دیکھ رہے تھے۔ ایک ویڈیو ٹویٹر پر وائرل ہوئی، پندرہ سیکنڈ کی۔ سپر مارکیٹ کے باہر ایک آنٹی اپنے شاپنگ بیگ سے ایک آدمی کو مار رہی تھیں جو بار بار اٹھ کر ان کی طرف آ رہا تھا۔ کیپشن لکھا تھا، اسلام آباد کی آنٹی سے پنگا مت لو۔ پچاس لاکھ ویوز۔ سب ہنس رہے تھے۔ وہ آنٹی اب نہیں ہنس رہی تھیں۔

شام چھ بج کر سینتالیس منٹ پر وزارت داخلہ کے ترجمان نے پریس کانفرنس کی۔ چند غیر سماجی عناصر نے بدامنی پھیلائی ہے، صورتحال کنٹرول میں ہے، فورسز متحرک ہیں۔ شام سات بج کر پندرہ منٹ پر سیکریٹریٹ کی بتیاں بجھ گئیں۔ رات آٹھ بج کر دو منٹ پر 15 پر کوئی نہیں اٹھا رہا تھا۔ اسلام آباد پولیس کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر آخری ٹویٹ ٹریفک قوانین کی یاددہانی تھی۔

اسلام آباد ایک منصوبہ بند شہر ہے، سیکٹروں میں بٹا ہوا، سڑکیں چوڑی، آبادی کم۔ لیکن یہ صرف نقشے پر ہے۔ حقیقت میں اس شہر کے ساتھ راولپنڈی جڑا ہوا ہے، بیس لاکھ لوگوں کا شہر جہاں گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ سورج نہیں پہنچتا۔ آپ اسلام آباد سیل کر دیں تو لوگ پنڈی سے آ جائیں گے۔ آپ پنڈی بند کریں تو مری روڈ سے اتر آئیں گے۔ یہ دو شہر ایک جسم ہیں۔ آپ ایک ہاتھ باندھ سکتے ہیں، دوسرا آزاد رہے گا۔

ایف سیون مارکابہ پہلے گرا۔ اسلام آباد کی سب سے مشہور مارکیٹ، جہاں شام کو فیملیز آئس کریم کھانے آتی ہیں اور نوجوان گھومتے ہیں۔ سپر مارکیٹ کے شیشے ٹوٹے۔ ریسٹورنٹس کے اندر لوگوں نے میزیں دروازوں پر لگائیں۔ سیونتھ ایونیو کے کھانے کی خوشبو کسی اور بو میں بدل گئی۔ جنسی سٹریٹ کے دکاندار اپنی دکانوں کے شٹر بند کر کے اندر چھپ گئے۔ شٹر لوہے کے تھے، مضبوط تھے۔ لیکن لوہا تھکتا نہیں، اور باہر والے بھی نہیں تھکتے تھے۔

فیصل مسجد خاموش تھی۔ دنیا کی سب سے خوبصورت مسجدوں میں سے ایک، مرگلہ پہاڑیوں کے سائے میں، اس کا سفید سنگ مرمر چاندنی میں چمک رہا تھا۔ اندر سینکڑوں لوگ پناہ لے کر بیٹھے تھے۔ دعائیں گونج رہی تھیں۔ مسجد کے دروازے بھاری ہیں، دیواریں موٹی ہیں۔ لیکن مسجد عبادت کے لیے بنی تھی، قلعے کے لیے نہیں۔ صحن کے دروازے کھلے تھے کیونکہ مسجد کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔

راولپنڈی کی طرف سے لہر آئی۔ راجہ بازار، جہاں گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ رکشہ مشکل سے گزرتا ہے، پندرہ منٹ میں سقوط ہو گیا۔ لوگوں نے لڑائی کی، یہاں کے لوگ لڑنا جانتے ہیں۔ لوہے کی چھڑیاں، چاقو، اینٹیں۔ لیکن گلیاں بہت تنگ تھیں اور آنے والے بہت زیادہ۔ مری روڈ پر ٹریفک جام ہو گیا، گاڑیاں پھنس گئیں، اندر بیٹھے لوگوں نے دروازے لاک کر لیے۔ شیشے کے دروازے۔

سیکٹر جی سکس کا آبپارہ مارکیٹ، پارلیمنٹ ہاؤس، صدر ایوان، سپریم کورٹ، سب ایک ہی علاقے میں۔ طاقت کا مرکز۔ سیکیورٹی سب سے زیادہ، دیواریں سب سے اونچی۔ یہ علاقہ سب سے آخر میں گرا۔ لیکن گرا۔

مرگلہ پہاڑیوں پر دامن کوہ ویو پوائنٹ سے اسلام آباد کا پورا نظارہ دکھتا ہے۔ سیکٹروں کی لائنیں، سڑکوں کی روشنیاں، ایک ایک کر کے بجھتی ہوئیں۔ فیصل مسجد کی سفیدی سب سے آخر تک نظر آتی رہی۔

پھر وہ بھی اندھیرے میں ڈوب گئی۔

دو کروڑ منہ کھلے ہوئے تھے۔ کاٹنے کے لیے۔

7 کردار۔ 28 دن۔ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں۔

  • 👑
    رہنما
  • 🏃
    سکاؤٹ
  • 🛡️
    ٹینک
  • 💉
    طبیب
  • 🍳
    باورچی
  • 🔧
    تکنیکی ماہر
  • 💀
    چارہ